| گو رگِ جاں میں اتر جاتے ہیں |
| ہجر کے دن بھی گزر جاتے ہیں |
| زندہ ہیں یاد سے تیری ورنہ |
| لوگ تنہائی میں مر جاتے ہیں |
| دیکھنے کون ہمیں آتا ہے |
| راہ میں ہم ہی ٹھہر جاتے ہیں |
| ہم چھپا لیتے ہیں حالت اپنی |
| اشک چالاکی سی کر جاتے ہیں |
| یوں اندھیروں کا ہے عادی انساں |
| دل اجالوں سے بھی ڈر جاتے ہیں |
| خواب ، چہرہ نہ بدن رہتا ہے |
| یار مٹی میں بکھر جاتے ہیں |
| دیکھ لی جگ کی محبت شاہد |
| آ کہ اب لوٹ کے گھر جاتے ہیں |
معلومات