گو رگِ جاں میں اتر جاتے ہیں
ہجر کے دن بھی گزر جاتے ہیں
زندہ ہیں یاد سے تیری ورنہ
لوگ تنہائی میں مر جاتے ہیں
دیکھنے کون ہمیں آتا ہے
راہ میں ہم ہی ٹھہر جاتے ہیں
ہم چھپا لیتے ہیں حالت اپنی
اشک چالاکی سی کر جاتے ہیں
یوں اندھیروں کا ہے عادی انساں
دل اجالوں سے بھی ڈر جاتے ہیں
خواب ، چہرہ نہ بدن رہتا ہے
یار مٹی میں بکھر جاتے ہیں
دیکھ لی جگ کی محبت شاہد
آ کہ اب لوٹ کے گھر جاتے ہیں

0
3