رکھتی ہے مسلسل ہی پریشان تری یاد
کیوں چھوڑ نہیں دیتی مری جان تری یاد
ممکن ہے کسی روز مری جان ہی لے لے
اس قدر ستاتی ہے اے نادان تری یاد
کٹتی ہے کہاں عمر بھلا یاد سہارے
لگتی ہے مری موت کا سامان تری یاد
جھیلا ہے بہت کرب یہاں میری ہوئی بس
روکو نہ کرے اور مرا نقصان تری یاد
اب ختم ہوئے جاتے ہیں ان آنکھوں سے آنسو
مانگے ہے مگر اور بھی تاوان تری یاد
کرتی ہے تعاقب یہ مرا مہر مبشر
ہر سمت اٹھائے ہوئے طوفان تری یاد

0
4