مخمور نگاہوں کو نیا جام دے ساقی
گرتے ہوئے رِندوں کو ذرا تھام اے ساقی
رِندوں کے ہے رُخسار پہ آفاق کی سُرخی
کیا بادہ میں اُتری ہے کوئی شام اے ساقی
رُکتی نہیں گردشِ ایّام اے ساقی
گردش میں رہے جام بِلا تام اے ساقی
کُچھ رِند چھپے بیٹھے ہیں اَصنام کی صورت
کیا تم ہو شَری رام شَری رام اے ساقی
مَے اُن کے لبوں سے جو لگی ہے وہ پلا دے
کردے تُو مِرا کام یہی کام اے ساقی
ہو پیار کے پیمانے میں دیدار کی مَستی
مَستی میں پِھروں عام سَرِ عام اے ساقی
جس نام سے منسُوب ہے پیمانۂِ وحدت
لے نام وہی نام وہی نام اے ساقی

0
23