| سرکارِ دو جہاں کا، دربار ہے نرالا |
| اقوال ہیں نرالے، کردار ہے نرالا |
| سیرت مرے نبی کی، قرآن ہے سراپا |
| لاریب میرے رب کا، اظہار ہے نرالا |
| زلفوں کی وہ تجلی، رخسار کی وہ رونق |
| رب کی قسم وہ حسنِ سرکار ہے نرالا |
| انگلی اٹھی قمر کے، دو ٹکڑے ہو گئے ہیں |
| تاریخ میں نہ ایسا، شہکار ہے نرالا |
| آئے ہیں اس جہاں میں کتنے ہی انبیاء پر |
| اس کائنات میں وہ سردار ہے نرالا |
| جس دل میں بس گئی ہے سرکار کی محبت |
| وہ دل بھی ہے نرالا، وہ پیار ہے نرالا |
| خود بھوکے رہ کے آقا، بھوکوں کو ہیں کھلائے |
| امت کے حق میں کیسا، ایثار ہے نرالا |
| منظر سبھی منورؔ، آنکھوں میں بس گیے ہیں |
| طیبہ نگر کا ہر اک، دیدار ہے نرالا |
معلومات