نمائش کی ہوس میں ہم نے اپنی جاں گنوا دی ہے
یہ سستی شہرتوں کی نذر دانائی لٹا دی ہے
ہوئی ہے فکر مفلوج اور قلم بے دست و پا ٹھہرے
مشینوں نے اب انسانوں کی قیمت ہی گھٹا دی ہے
ہوا ہے قتل اب جذبہ قلم کی موت آئی ہے
حقیقت مٹ گئی، تصویرِ مصنوعی سجا دی ہے
تخیل کی ہری شاخیں کٹیں پرزوں کے ہاتھوں اب
غلامی نے نئی ہر سمت اب دیوار اٹھا دی ہے
لکھا ہے خاک پر کیا، اب اسے پڑھنا بھی مشکل ہے
ہمیں اختر مشینوں نے نئی منطق سکھا دی ہے

0
3