| کل تو اک بن کے بکھر جائے گا |
| دل کا دریا ہے اتر جائے گا |
| آنے والا ہے خزاں کا موسم |
| سوکھ الفت کا شجر جائے گا |
| ٹوٹ جائے گی صدا ہونٹوں پر |
| دید کا شوق بھی بھر جائے گا |
| تھک نہ جائیں یہ زمانے دلبر |
| وقت ہے جلدی گزر جائے گا |
| تھام ہم لیتے ہیں خود کو لیکن |
| درد ، احساس ہے مر جائے گا |
| مل ہمیں آج محبت سے تو |
| ورنہ ، پروانہ مکر جائے گا |
| اس تغافل میں ترے اے شاہد |
| رائیگاں تیرا ہنر جائے گا |
معلومات