بہ جائے دل ہے کسی شوخ کا نشانہ دماغ
قبول دل نہیں کرتا اسے مرا، نہ دماغ
وہ کھلکھلائے تو لازم ہے مسکرائیں ہم
خموش بیٹھ اداسی ، ہمارا کھا نہ دماغ
سمجھ سکا نہیں میری کتھا جِمِینائی
مشیں کے پاس مرے جیسا دل نہ تھا، نہ دماغ
بہت کچھ اس کے لیے میں نے سوچ رکھا ہے
وہ جس کے سامنے میرا کبھی چلا نہ دماغ
وہ چاہتی ہے کرے مجھ سے اک ضروری بات
بنا نہ دے مگر اس بات کا فسانہ دماغ
نگاہیں پھیر لیں میں نے بھی دوسروں کی طرح
غـ-ـزہ کی سمت سے لیکن مرا ہٹا نہ دماغ
پرانی یادیں قمر خوش گوار ہوں کہ نہ ہوں
بھلانا چاہتا ان کو نہیں پرانا دماغ
قمرآسیؔ

0