ہم یاں پڑے ہوۓ ہیں تو تم واں پڑے ہوۓ
دونوں ہی اپنی اپنی ہیں ضد پر اڑے ہوۓ
یوں زندگی میں امتحاں اپنی کڑے ہوۓ
پھر بھی ہیں اپنے پیروں پہ اب تک کھڑے ہوۓ
آۓ تمہارے سامنے لاکھوں حسیں مگر
ہیں شرم سے کہ جیسے زمیں میں گڑے ہوۓ
ساقی نے آ کے تھام لیا تھے نشے میں ہم
ویسے ہی گر پڑے کہ تھے جیسے کھڑے ہوۓ
کس طرح سے بڑھے گی محبت نہ جانے پھر
اک وقت ہے گزر گیا ہم کو لڑے ہوۓ
سو بار تیرے در سے نکلنے کے باوجود
آتے ہیں تیرے در پہ کہ چکنے گھڑے ہوۓ
تاثیر کیا وفا میں محبت میں کیا اثر
جھوٹی یہ ساری باتیں ہیں قصے گھڑے ہوۓ
اڑ کر ہوا کے دوش پہ پھرتے ہیں در بدر
مرکز سے ہو کے دور یہ پتے جھڑے ہوۓ
محفل میں تیری کیا ہے ہمارے سوا صنم
کچھ بد نما سی صورتیں چہرے سڑے ہوۓ
آنکھیں کنول ہیں لعل ہیں لب چہرہ دلنشیں
دنداں دہن میں جیسے ہوں موتی جڑے ہوۓ
چالاکیوں سے ہم تری کرتے ہیں درگزر
تجھ جیسے اپنی جیب میں سو ہیں پڑے ہوۓ
بچپن سے خواہشوں کا گلا گھونٹتے رہے
بس دل کو مار مار کے ہم ہیں بڑے ہوۓ
جس موڑ پر تو چھوڑ کے ہم کو چلا گیا
ہم اس مقام پر ہیں ابھی تک کھڑے ہوۓ

0
2