تَمنا خُود کو کھونے کی بَسا أوقات ہوتی ہے
مِری ہستی اگر گُم ہو تو عرشِ ذات ہوتی ہے
تجلی اُس کے جلووں کی بَراہِ راست ہوتی ہے
کبھی بجلی، کبھی شبنم، کبھی مِشکات ہوتی ہے
تِرا عشقِ حقیقی جب مُجھے کرتا ہے انگارا
تبھی جا کر مِری ہستی تِری مِرآت ہوتی ہے
میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو آتا ہے نگاہوں میں
میں جب خاموش ہوتا ہوں تو اُس سے بات ہوتی ہے
نِکالا ہے اِسی کارن مَکانِ دل سے دُنیا کو
جہاں کُچھ بھی نہیں ہوتا وہاں وہ ذات ہوتی ہے
مِرے آنسو ہیں وہ پانی کہ جن پر عرش ہوتا تھا
یہی وہ آب ہے جس سے نئی سوغات ہوتی ہے
اُنہی آنکھوں کو ملتا ہے نظارہ حُسنِ جاناں کا
کہ جن آنکھوں سے اَشکوں کی سَدا برسات ہوتی ہے
نَفس پر تیغِ "لَا" گر ہو تبھی مقصود ملتا ہے
نَفی کی جب نَفی ہو تو یہی اثبات ہوتی ہے

0
4