زمانے کی ریاضت پھر کھری ہے
عبادت عشق سے جس نے کری ہے
مخاطب آج آخر ہو گیا وہ
یہ میرے پیار کی کاری گری ہے
بشر کے ساتھ ہی یہ دفن ہو گی
تمنا بھی کہیں گھٹ کے مری ہے
پرستش اک خدا کی کرنے والا
جہاں کی ہر عدالت سے بری ہے
یہی تو عشق ہے مقصود سچا
میں ادنا وہ محلوں کی پری ہے

0
6