| شرر ذخیرہ بارود تک پہنچنے کو ہے |
| اب آگ خانۂ نمرود تک پہنچنے کو ہے |
| ہے جس پہ لکّھا ہوا لا الٰہ الا اللہ |
| وہ ہاتھ گردنِ مردود تک پہنچنے کو ہے |
| جو رِستا رہتا ہے ناسورِ جسمِ فردا سے |
| وہ زہر لمحۂ موجود تک پہنچنے کو ہے |
| جہاں سے کوئی کہیں راستہ نہیں جاتا |
| دل ایسی وادیِ مسدود تک پہنچنے کو ہے |
| گناہ لمحوں کے چہرے بتا رہے ہیں کہ اب |
| یہ دنیا ’’نیست سے نابود‘‘ تک پہنچنے کو ہے |
| اگر نہ بیچ میں حائل ہوئے مرے اعمال |
| تو پھر دعا مرے معبود تک پہنچنے کو ہے |
معلومات