| خلد تک پہنچا ۓ گا جو راستہ لکھتا رہا |
| رات بھر نعتِ حبیبِ کبریا لکھتا رہا |
| میں نے جب بھی نام لکھا سرورِ کونین کا |
| ساتھ ہی صلِ علی صلِ علی لکھتا رہا |
| عیسی کو روح اللہ موسی کو کلیم اللہ لکھا |
| اور نبی کو اپنے،محبوبِ خدا لکھتا رہا |
| بعد ان کے اب نبوت کا نہیں کوئی نشاں |
| میں انہیں مہرِ نگینِ انبیاء لکھتا رہا |
| بغض رکھا ہی نہیں دل میں کسی کے بھی لیے |
| ان کے سب اصحاب کو میں باوفا لکھتا رہا |
| جن کے سر پر ٹوپی دیکھی اور داڑھی چہرے پر |
| ان سبھی کو عاشقانِ مصطفی لکھتا رہا |
| بس یہی نسبت مجھے جنت لے جاۓ گی تقیؔ |
| فخر سے خود کو غلامِ مصطفی لکھتا رہا |
معلومات