کسی زنجیر کی جھنکار ہوں میں
سرِ زنداں تجھے درکار ہوں میں
کناروں پر مسلسل بہہ رہا ہوں
سمندر کی کوئی مجدھار ہوں میں
کھلا ہوں خود پہ جو میں تھوڑا تھوڑا
سمجھ آیا کہ پر اسرار ہوں میں
ذرا یہ دیکھ آنکھوں کے فسانے
میں سویا ہوں مگر بیدار ہوں میں
محبت میں تری چنوا دیا ہوں
بہت تنہا پسِ دیوار ہوں میں
شبِ گریہ بنا ہے ہجر تیرا
تمہارے غم میں ماتم دار ہوں میں
بلندی سے مجھے پھینکا گیا ہے
اذیت سے بہت آزار ہوں میں
مرا بس جرم ہے اتنا محبت
زمانے کے لیے بدکار ہوں میں
قلم بھی ہاتھ میں اٹھتا نہیں ہے
سخن لکھنے سے بھی بیزار ہوں میں
مرے بارے سبھی کی تہمتیں ہے
سروں پر چاک سی دستار ہوں میں
دعا کرتا ہوں تیری زندگی کی
تری جانب سے بھی نادار ہوں میں
مجھے بھی جستجو اپنی ہے ساگر
حقیقت ہوں کوئی کردار ہوں میں

9