قَوّال کو سُر تال کی رہتی ہے ضرورت
عُشّاق کو احوال کی رہتی ہے ضرورت
میں "حال" میں رہتا ہوں، کہ بے حال نہیں ہوں
بے "حال" کو اقوال کی رہتی ہے ضرورت
جو حال سنائے مُجھے "اَذْکُرْ" کی بشارت
ہر حال میں اُس حال کی رہتی ہے ضرورت
جس " قال" سے برپا ہو محبت میں طلاطم
مجنوں کو اُسی "قال" کی رہتی ہے ضرورت
خَنّاس سے بچنا ہے تو اِشکال مٹا دو
خَنّاس کو اِشکال کی رہتی ہے ضرورت
ہر قلبِ شکستہ کو ہے وَصل کی حاجت
پامال کو اِکمال کی رہتی ہے ضرورت
تکوین کی تکمیل بھی ہوتی ہے وَلی سے
حالات کو ابدال کی رہتی ہے ضرورت
از فضلِ خُداوند پہنچتا ہے ثواب
ہر روح کو اِیصال کی رہتی ہے ضرورت
ہر دور میں رِندوں کے نئے طَورِ طلب کو
ساقی کو نئی چال کی رہتی ہے ضرورت
تبریز کے سورج کو ہے رومیؒ کی ضرورت
رومیؒ کو بھی اقبالؒ کی رہتی ہے ضرورت

0
6