سرکارِ دوعالم کے فرامین کے وارث
وہ بعدِ عمر مملکتِ دین کے وارث
کرتے ہیں حیا جن سے فرشتے بھی فلک پر
عثمان ہیں اس خُلقِ براہین کے وارث
قرآن کیا جمع بہ توفیقِ الٰہی
کہنا ہے بجا مصحفِ تسکین کے وارث
دو نور ملے ان کو درِ پاک نبی سے
دونوں ہی طہارت کے عناوین کے وارث
بے غرض سخا جس کا ہے منشورِ حقیقی
عثمانِ غنی ایسے ہیں آئین کے وارث
تا عمر نہیں دین پہ آنے دی کوئی آنچ
تھے عزم و عمل ، کلمۂِ حق بین کے وارث
فرمائی مسلمانوں کی عسرت میں بھی نصرت
کہلائے وہ ما ضَرَّ کی تبیین کے وارث
جب دستِ نبی دستِ غنی کا بنا مصداق
اس بیعتِ رضوان پہ آمین کے وارث
اشعار وہی اصل میں ہیں منقبت آسی
سیرت کے جو سچے ہیں مضامین کے وارث
قمرآسیؔ

0
3