انھیں کے خواب دیکھوں مشغلہ میرا ہے نِس دِن کا
پتا معلوم ہے مجھ کو نہ ہی نام و نشاں جِن کا
برا کیا نام ہو ہم سے کسی دنیا میں خائن کا
انھیں مطلوب ہے ضامن ہمارے فعلِ ضامِن کا
بنائی جب گئی عورت شریکِ زندگی اس کی
تو ہو کیوں حور سے ناطہ بھلا اک مردِ مومِن کا
ملیں " لاکھوں برس کی " خلد میں حوریں اگر مجھ کو
کروں گا کیا وہاں جا کر " نگاہِ مردِ مومِن " کا
کہیں ہے ہاتھ میں مذہب کسی شیخ و برہمن کے
کہیں پنڈت مسلط ہے کہیں قبضہ ہے کاہِن کا
ہمارے گھر کے آنگن میں درخت اک سوکھا ساکھا ہے
یہ کہتے ہیں سبھی اس پر کہ سایہ ہے کسی جِن کا
سبھی لگتے ہمیں ہیں ہجر میں اوقات اک جیسے
نہیں ہے ہوش صبح و شام ہم کو رات اور دِن کا
کہوں یوں لاکھ میں دل میں نہیں ان سے محبت ہے
سدا رہتا ہے کوئی چور کی داڑھی میں پر تِنکا
ذرا سی چوٹ لگ جاۓ اگر دل پر بہیں آنسو
نہیں دیں ساتھ تو یہ کیوں دل ایسے اپنے " محسِن " کا
بڑی مشکل سے کرنے بھی لگیں کوئی جو وعدہ تو
وظیفہ بیچ میں پڑھتے ہی رہتے ہیں وہ " لیکِن " کا
بکھیرا ایک ہی پل میں ہواۓ تند نے اس کو
بنایا آشیاں جو جمع کر کر کے اک اک تِنکا
بسر ایک ایک پل میں نے کیا ہے صدیوں کے مانند
رہا دنیا میں میں گرچہ فقط مہمان دو دِن کا
نہیں دنیا میں کوئی کام بھی لگتا ہمیں مشکل
نہیں لفظ اپنی ہے شامل لغت میں ہی " نا ممکِن " کا
نکالے اس وجہ سے ہم گۓ جنت سے ہیں شاید
بنانا ہم کو تھا آباد کار اس گوۓ ساکِن کا
بہت پیچیدہ اور نازک مراحل ہیں محبت کے
سمجھ آئیں نہ تو کیا دوش آخر یارِ کمسِن کا
لگیں قادر سبھی یوں تو سواۓ اپنے خوش ہم کو
کسی کا دیکھ کر ظاہر نہ اندازہ ہو باطِن کا

0
3