| جوں کسی کو کجروی پر ناز ہے |
| عاشقوں کو عاشقی پر ناز ہے |
| فخر کرتے ہیں حماقت باز ہی |
| کیونکہ شیطاں کو شقی پر ناز ہے |
| عاشقِ صادق چھپا کر عشق کر |
| عشق کو عشقِ خفی پر ناز ہے |
| عشق کر پر عشق کا اعلاں نہ کر |
| عاشقی کو سادگی پر ناز ہے |
| ہوش جس کو نہ ہو وہ نازاں ہو کیا |
| آگہی کو بے خودی پر ناز ہے |
| ہو عبادت حق جو ہو خود سے قریب |
| حق کو ایسی بندگی پر ناز ہے |
| گر اندھیرا ہو تو نور آئے نظر |
| ہم کو اپنی تیرگی پر ناز ہے |
| شربتِ دیدار سے بجتی ہے پیاس |
| تشنہ لب کو تشنگی پر ناز ہے |
| خود سے ہو بے خود تو ہو دیدار یار |
| دید کو وارفتگی پر ناز ہے |
| ہے شعورِ ذات کا ہی نام نور |
| جس لئے اس روشنی پر ناز ہے |
| تم خودی کے ہو ذکی املا نویس |
| کیسے تم کو شاعری پر ناز ہے |
معلومات