سجدوں میں پڑا در پہ پشیمان ہوں مولا
حالت ہوئی اپنی پہ پریشان ہوں مولا
آنکھوں میں جلن سینے میں خاموش ہے طوفاں
بے حس ہوں پڑا فکر میں بے جان ہوں مولا
رحمت کا ہوں طالب میں جو دشوار ہے منزل
کر دے اسے آساں ترا احسان ہے مولا
قابل ہے ستائش کے تو معبود ہے میرا
اللہ تری اس شان پہ قربان ہوں مولا
خالق ہے تو ہر چیز پہ قادر ہے تو مطلق
اک تیری بڑائی کا میں اعلان ہوں مولا
مفلس کے ضروری ہے بدن پر کوئی پردہ
مجھ پر ہو کرم چاک گریبان ہوں مولا
آدم ہوں خلیفہ ہوں میں دھرتی پہ تمہارا
غلطی کا ہوں پتلا ترا انسان ہوں مولا

0
3