| کہیں لب پر دعاؤں کا اجارہ ہو نہ جائے |
| حقیقت بھی فقط اک استعارہ ہو نہ جائے |
| فضاؤں میں دھواں اک خطرہ بنتا جا رہا ہے |
| اسی بازی میں گم ماحول سارا ہو نہ جائے |
| وگرنہ جنگ کا یہ لطف بھی جاتا رہے گا |
| اِکائی دشمنوں کی پارہ پارہ ہو نہ جائے |
| ابھی تو دیکھنا ہے سارا پس منظر خلا کا |
| نگاہِ جستجو محض اک نظارہ ہو نہ جائے |
| وہی اک بات جو اس کو بتانا چاہتا ہوں |
| وہی اک بات اس پر آشکارا ہو نہ جائے |
| ذرا سی آنچ بھی اس شاخ تک آنے نہ پائے |
| امیدوں کا شجر یکسر خسارہ ہو نہ جائے |
| اجل سے آنکھ آخر کیسے مل پائے گی شاعر |
| تجھے یہ زندگی یوں ہی گوارا ہو نہ جائے |
معلومات