کہیں لب پر دعاؤں کا اجارہ ہو نہ جائے
حقیقت بھی فقط اک استعارہ ہو نہ جائے
فضاؤں میں دھواں اک خطرہ بنتا جا رہا ہے
اسی بازی میں گم ماحول سارا ہو نہ جائے
وگرنہ جنگ کا یہ لطف بھی جاتا رہے گا
اِکائی دشمنوں کی پارہ پارہ ہو نہ جائے
ابھی تو دیکھنا ہے سارا پس منظر خلا کا
نگاہِ جستجو محض اک نظارہ ہو نہ جائے
وہی اک بات جو اس کو بتانا چاہتا ہوں
وہی اک بات اس پر آشکارا ہو نہ جائے
ذرا سی آنچ بھی اس شاخ تک آنے نہ پائے
امیدوں کا شجر یکسر خسارہ ہو نہ جائے
اجل سے آنکھ آخر کیسے مل پائے گی شاعر
تجھے یہ زندگی یوں ہی گوارا ہو نہ جائے

3