| تیرے غم سے اب کنارا کر لیا |
| کر لیا جتنا خسارا، کر لیا |
| رات خوابوں کو سہارا کر لیا |
| دن میں یادوں پر گزارا کر لیا |
| تیرگی مصرعے میں بیٹھی تھی کہیں |
| روشنی کو استعارہ کر لیا |
| ہم نے اُس کے چہرے کی تعریف کی |
| اُس نے ہنس کے اور پیارا کر لیا |
| ہجر جب سرحد سے آگے بڑھ گیا |
| پھر کسی دل پر اجارہ کر لیا |
| زندگی جب بھی مقابل آ گئی |
| رشتے ناطے کا اشارہ کر لیا |
| خوب چرچا ہے عدو کی بزم میں |
| ذکر ہم نے کیوں تمہارا کر لیا |
| دوستوں سے ہم نے دل کی بات کی |
| سب نے لفظوں کو ہی آرا کر لیا |
| سب خدا سے عین ڈرتے ہی رہے |
| حُسن کا ہم نے نظارہ کر لیا |
| عین چودھری |
معلومات