| مت پکارو زور سے لے لے کے دیوانے کا نام |
| وہ نہیں صحرا سے لے گا لوٹ کر آنے کا نام |
| شمع تجھ کو کام ہے جلنے جلانے سے فقط |
| پر جلایا جس کو پوچھا تک نہ پروانے کا نام |
| جب تلک ٹوٹے نہ یہ توبہ نہ ٹوٹے گی مری |
| رکھ دیا ہے میں نے " توبہ " اپنے پیمانے کا نام |
| میں نے پہلے ہی کہا تھا پینے سے مے باز آ |
| لے رہا ہے اب نہ زاہد ہوش میں آنے کا نام |
| کون کہتا اک قفس کو آشیانہ ہے مرا |
| کس نے یہ " دل " رکھ دیا ہے ایک ویرانے کا نام |
| بزم میں آنے کی تیری کب اجازت تھی مجھے |
| آ گیا ہوں اب تو کیوں لوں میں بھلا جانے کا نام |
| اک قیامت سے نہیں ہے کم ترا چڑھتا شباب |
| ہے گھٹا ساون کی تیری زلف لہرانے کا نام |
| حسن کیا ہے ایک گل اندام کا عہدِ شباب |
| عشق کیا ہے حسن پر اک دل کے مٹ جانے کا نام |
| ہچکچا ساقی نہ دینے سے مجھے جامِ شراب |
| رند ہی کیا پی کے جب تک لے نہ لہرانے کا نام |
| کس توقع پر میں سمجھوں وہ صدا دے گا مجھے |
| جانتا تک جب نہیں وہ اپنے بیگانے کا نام |
| ہم رہیں ساقی نہ باقی چاہے مٹ جاۓ جہاں |
| تا ابد زندہ رہے پر تیرے میخانے کا نام |
| یوں تو عنواں درد کے آتے بہت ہیں ذہن میں |
| رکھ سکا اب تک نہ لیکن دل کے افسانے کا نام |
| اک قفس کے ما سوا کیا ہے کہ یہ سارا جہاں |
| زندگی کیا ہے بجز قادر کہ مے خانے کا نام |
معلومات