اک کربِ مسلسل ہے اور میں ہوں
تنہائی کا جنگل ہے اور میں ہوں
,
اس تیز ہوا کی اندھیری شب میں
اک پریم کا پیپل ہے اور میں ہوں
.
اس دیوی کا سامانِ زیب و زینت
سندور ہے کاجل ہے اور میں ہوں
.
آتی ہوئی اک بے کلی سی ہے کچھ
جاتا ہوا اک پل ہے اور میں ہوں
.
اک روپ نگر کے جزیرے پر وہ
اک پیکرِ صندل ہے اور میں ہوں
.
اک آدھے سے کمرے کی آدھی شب میں
اک آدھی سے کمبل ہے اور میں ہوں
/
اس چاہتوں کی برکھا رت میں اس کا
بھیگا ہوا آنچل ہے اور میں ہوں
.
اک جسم کے دلکش سراب کے بیچ
اک سوچوں کا دلدل ہے اور میں ہوں
.
اس صحرا میں بس میری طرح کا ایک
بھٹکا ہوا بادل ہے اور میں ہوں
.
اک خواب سی وادی ہے کوئی تم ہو
اک خواب سا کوئی ڈل ہے اور میں ہوں

0
20