| چشمِ نم مسکراتی ہے کردار پر |
| دل ابھی تک دھڑکتا ہے ایثار پر |
| لفظ مٹی میں ملتے گئے شہر کے |
| زہر اُگنے لگا ہے ہر اک پیار پر |
| آئینوں سے بھی اب خوف آنے لگا |
| گرد سی چھا گئی ذہنی بیمار پر |
| کتنے چہروں کے اندر اندھیرے ملے |
| روشنی ڈھونڈتے ڈھونڈتے یار پر |
| لوگ سچ بولنے سے بھی ڈرتے رہے |
| جھوٹ قابض رہا ہر طرف دار پر |
| وقت کی دھوپ نے یہ سبق بھی دیا |
| پھول کھلتے نہیں ہر کسی خار پر |
| یہ تمدن بھی ارشدؔ عجب شے ہوئی |
| فخر کرتا ہے انسان بھی عار پر |
| ارشدؔ اب آدمی کی یہ پہچان ہے |
| کتنا قائم ہے وہ اپنے معیار پر |
| مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی |
معلومات