| ہم جو ذکرِ شراب کرتے ہیں |
| درد کا احتساب کرتے ہیں |
| باغبانی کی کس کو خواہش ہے |
| ہم تو گل کو سراب کرتے ہیں |
| سولیاں دے کے جانثاروں کو |
| جرم کو بے نقاب کرتے ہیں |
| ہیں ازل سے خدا فرشتے ساتھ |
| زاہدوں کا حساب کرتے ہیں |
| دوستوں دشمنوں سے دور رہو |
| ہمسروں کو خراب کرتے ہیں |
| پھر سے سنتے ہیں میر کی غزلیں |
| پھر سے ہم انقلاب کرتے ہیں |
| اک تمہارا تو اک ہمارا ہو |
| یوں سوال و جواب کرتے ہیں |
| ہم تو بالواسطہ یہاں ساگر |
| ساری دنیا خراب کرتے ہیں |
معلومات