ذرے ذرے میں ہے ظہورِ حیات
چاند تاروں کو ہے شعورِ حیات
کثرتِ نوع تیرا حسنِ کمال
ہر رگ و پے میں تیرا نورِ حیات
سب کو ادراک تیری بندگی کا ہے
روز و شب گردشِ حضورِ حیات
وہ ہی پہنچا عروج بامِ نمود
تو نے بخشا جسے غرورِ حیات
بحرتوحید لا مکاں تُو ، تو میں
قطرہِ قلزمِ زبورِ حیات
بحر خفیف مسدس مخبون محذوف
بروزن فاعلاتن مفاعلن فعِلان

0
5