سیدھا سیدھا راستہ ہے احمدِ مختارؐ کا
بے تکلّف زندگی ہے، راستہ ہے پیار کا
مُسکرا کے گھر ہی سارا، دے دیا صدیقؓ نے
پہنے کپڑے ٹاٹ کے، کیا حوصلہ ہے یارؓ کا
سادگی میں بندگی ہے، بندگی میں سادگی
سادہ سادہ سلسلہ ہے وَصْل اور دیدار کا
سادگی دَر عاشقی، یہ عاشقی کا نُور ہے
سادگی ہے آئینہ عاشِقِ دلدار کا
سادگی احساس ہے نعمتوں کی قَدر کا
سادگی منشور ہے، عجز کا ایثار کا
سادگی میں ہے سہولت، عار اس میں کُچھ نہیں
سادگی آسودگی ہے، تاج ہے بیدار کا
پُرتکلف زندگی، بندگی سے دُور ہے
یہ تَصنّع کام ہے دین سے بیزار کا
جس کا مَسلک سادگی ہے، خادِمِ مخلوق ہے
ذُوالْفِقارِؒ پیرِ مَن، وہ بندہ ہے سرکارؐ کا
اے غلاؔمِ خواجہ تُو، مُرشد کی باتیں مان لے
اپنا رانجھا راضی رکھ، تُو چھوڑ فکر اغیار کا

0
4