| اے آدم تو خُود کو کَہاں جانتا ہے |
| تِرا رَب تو تیرے گُماں جانتا ہے |
| نہ جانا خُدا کو، نہ خُود کو ہی جانا |
| تُو کہنے کو سارا جَہاں جانتا ہے |
| نَظر کوئی کیسے اُٹھے اُس کے آگے |
| وہ سَب کا ہی کارِ نِہاں جانتا ہے |
| نِگاہیں نہ پائیں نِشانِ خُدا کو |
| خُدا تو نَظر کے نِشاں جانتا ہے |
| نَظر جس نے ڈالی ہے اپنے نِشاں پر |
| نِشانِ خُدا کو عَیاں جانتا ہے |
| عَرَفْ کے بیاں میں ہےعرفان سارا |
| یہ عارف ہی سِرِّ زَماں جانتا ہے |
| یہ دُنیا بَنی جان پہچان کو ہے |
| جو جانے یَہاں وہ وَہاں جانتا ہے |
| جو مُرشد کو قِبلہ نُما مانتا ہے |
| وُہی تو اَمر کو اَذاں جانتا ہے |
| وُہی جس نے وَحدت کا بادہ پِیا ہے |
| جَمالِ خُدا دَر بُتاں جانتا ہے |
معلومات