پہلے نئی جگہ پہ ذرا ڈر لگا مجھے
پھر کچھ دنوں میں دشتِ گماں گھر لگا مجھے
آئینہ دیکھ کر مجھے وحشت نہیں ہوئی
زخمِ تمنا پہلے سے بہتر لگا مجھے
دیکھا کبھی نہیں ہے جسے میں نے آج تک
وہ شخص میرے پاس ہے اکثر لگا مجھے
آنکھوں نے اس کی سینکڑوں تصویریں کھینچ لیں
اس درجہ دل فریب وہ منظر لگا مجھے
اب اپنی خوش گمانی پہ میں شرم سار ہوں
اس کا کوئی اشارہ تھا آفر لگا مجھے
آیا تھا پہلی بار مرے سامنے وہ جب
دنیا سے مختلف کوئی پیکر لگا مجھے
کہتا ہے روز مجھ سے مرا طائرِ خیال
میں اڑنا چاہتا ہوں قمرؔ پر لگا مجھے
قمرآسیؔ

0