غمزدہ ہے دل ہمارا رب کے مہماں الوداع
اشک آنکھوں سے رواں ہیں ماہِ رمضاں الوداع
قلبِ عاشق کے لئے تُو بن کے آیا تھا بہار
تیرے جانے پر ہے دِل ویران و سُنساں الوداع
گیارہ ماہ تک اب رُلائے گا ہمیں غم ہجر کا
جا ترا اللہ حافظ اے مری جاں الوداع
چھم چھما چھم ہر گھڑی تھا رب کی رحمت کا نُزُول
تیرے جانے پر ہُوا بخشش کا ساماں الوداع
سجتی تھی بزمِ سَحَر افطار کا بھی لُطف خوب
رونقیں وہ مسجدوں کی ماہِ سُبحاں الوداع
ان مُبارک ساعتوں میں بھول جاتے دُکھ سبھی
غم کے ماروں کے لئے راحت کا ساماں الوداع
ہم سے راضی ہو کہ جانا بخشوانا سب گُناہ
واسطہ پیارے نبی کا ماہِ غُفراں الوداع
اے مری عُمرِ رَواں تُجھ سے وفا کی التجا
ساعتیں رمضان کی ہوں جب کہے جاں الوداع

0
3