کریں ہم عشق کا قصہ بیاں، گر تم اجازت دو
کریں رازِ محبت کو عیاں، گر تم اجازت دو
تِری آنکھوں میں اتری ہے جو خاموشی کی گہرائی
پڑھیں وہ بات جو دل میں نہاں، گر تم اجازت دو
بھلا کر ساری دنیا کو، تِری پلکوں کے سائے میں
بسائیں ہم الگ اپنا جہاں، گر تم اجازت دو
اگر اک پل بھی تم دیکھو محبت کی نگاہوں سے
کریں ہم دل کی ہر دھڑکن رواں، گر تم اجازت دو
حقیقت تم ہو یا کوئی حسیں خوابِ تمنا ہو
مٹا کر رکھ دیں یہ سارا گماں، گر تم اجازت دو
تِرے قدموں کی دھول آئے میسر گر ہمیں جاناں
جبیں پر ہم سجائیں وہ نشاں، گر تم اجازت دو
زمانے کے ستم سے تھک گیا ہے دل ہمارا اب
تِری زلفوں میں ہم ڈھونڈیں اماں، گر تم اجازت دو

0
6