اے آشنائے راز مُجھے آشنائی دے
اے نُورِ کائنات مُجھے رَوشنائی دے
توحید میں خلوص ہو حاصل رَضا رہے
اے ذاتِ لا شَریک مُجھے بے رِیائی دے
تیرا عظیم نام ہی وردِ زُبان ہو
اپنے کلام سے تُو مُجھے ہَمنوائی دے
مُجھ کو دے رَنگ ایسا کہ تیرا نِشاں دِکھوں
اے رنگِ بے نیاز مُجھے خُوش نُمائی دے
اُلفت ہو مُصطفٰیؐ سے عقیدت علیؓ سے ہو
از راہِ اِلتفات مُجھے مُصطفائی دے
حُسنِ اَزل کے عشق میں میرا بھی سر کٹے
دے صدقۂ حُسینؓ مُجھے کَربلائی دے
نِسبت یہ ذُوالفقارؒ کی مولا علیؓ سے ہے
صدقے مُرادؒ کے تو مُجھے مُرتضائی دے
پُختہ نہیں ہوں عِشق میں کامل نہیں ہوں مَیں
صحبت دے کاملوں کی مُجھے پیشوائی دے
خواجہؒ کے رنگ و رُوپ میں مجھ کو بھی رنگ کے
اپنے ہی دوستوں میں مُجھے رُونمائی دے
مخلوق کا ہی پیار دے خادم بنا مُجھے
خدمت کے راستے کی مُجھے رہنمائی دے
تیرا نیاز مند ہوں مُجھ کو نواز دے
اے نازِ دلرُبانہ مُجھے دِلرُبائی دے

0
9