دل میں پیدا وقار تو کرتے
ذکرِ حق بار بار تو کرتے
غیر سے لو لگائی ہے تم نے
اپنے رب سے بھی پیار تو کرتے
مانگتے ہو صلے عبادت کے
خود کو پہلے نثار تو کرتے
صاف ہو جاتا آئنہ دل کا
ذکرِ حق بار بار تو کرتے
دیکھنے کو یہ تجلیِ جاناں
آنکھ کو اشکبار تو کرتے
ظلمتِ شب میں یادِ مولیٰ سے
دل کو کچھ تابعدار تو کرتے
بن کے بندہ رہو درِ حق پر
نفس کو شرمسار تو کرتے
خاک ہو جاتے راہِ مولا میں
عشق کا کاروبار تو کرتے
مل ہی جاتی تجھے مراد اختر
اک ذرا انتظار تو کرتے

0
5