| سرد موسم ہے، دھندلکا سا ہے |
| دل میں ان کا خیال مہکا ہے |
| ان کی آمد کے اہتمام میں آج |
| گھر کے آنگن میں چاند اترا ہے |
| دور تک روشنی ہے راہوں میں |
| منتظر وقت بھی تو ٹھہرا ہے |
| ان کی خوشبو سے آج گلشن کا |
| ہر ورق شبنموں سے نکھرا ہے |
| یوں لگے، شب کی خامشی میں کہیں |
| کوئی مدھم سا ساز بجتا ہے |
| دل کی ویران بستیوں میں کنولؔ |
| اب ترا انتظار رہتا ہے |
معلومات