| وہ لطف ایسا کوئی ایجاد کر دے |
| مرے ہونے کو اک بنیاد کر دے |
| یہی اک وہم ہے دنیا کہ جس کو |
| کوئی لمحہ حقیقت زاد کر دے |
| اڑی پھرتی ہے دل میں خاکِ ہستی |
| دعا اس کو بھی پھر آباد کر دے |
| نہیں ہے اختیار اپنی قضا پر |
| جو ہونا ہے وہی افتاد کر دے |
| میں اپنے آپ سے بچھڑا ہوا ہوں |
| مری وحشت مجھے آزاد کر دے |
| یہ پل پل مر کے جینا اک سزا ہے |
| کوئی اس کو نیا مفہوم کر دے |
| قفس بھی اک تصور ہے مسافر |
| نظر کو وسعتِ آزاد کر دے |
| گنے جاتے ہیں سب اشکوں کے قطرے |
| غمِ دوراں تو لاتعداد کر دے |
| برا کیا ہے بھلا کیا کون جانے |
| خرد معیار ہی برباد کر دے |
| سزا اور جرم کا رشتہ بھی کیسا |
| کہ عدل اس عقد کو بےداد کر دے |
| یہ جو میں ہوں یہی اک مسئلہ ہے |
| خودی اس میں کو ہی برباد کر دے |
| مرے اشکوں میں کچھ گم گشتہ اشعار |
| کوئی ان کو لبِ اظہار کر دے |
معلومات