چاک کی ہے نہ کچھ رفو کی ہے
فکر گر ہے تو آبرو کی ہے
آئینہ رکھ کے منصفی کے لیے
خود سے دو ٹوک گفتگو کی ہے
میں ہوں درد آشنائے دل لوگو
اور یہ بزمِ رنگ و بو کی ہے
زخم کھائے ہیں مسکرا کے مگر
دل نے کب ترکِ جستجو کی ہے
ناداں شاعرؔ ذرا حساب تو کر
کس لیے خود سے گفتگو کی ہے

7