شب کی خاموشی کاٹنے والے
ہم ہیں بے ہوشی کاٹنے والے
رو بھی لیتے ہیں بند کمروں میں
سینۂ جوشی کاٹنے والے
سب کو کافر قرار دیتے ہیں
پردۂ پوشی کاٹنے والے
مشورے بھی کیا کسی کو دیں
ہم فراموشی کاٹنے والے
بیتی باتوں کو بھول جاتے ہیں
رات مے نوشی کاٹنے والے
چند اک ہیں فقیر سے چہرے
جو ہیں سر گوشی کاٹنے والے
چھیڑ اک تال رقص میں ساگر
ہم ہیں مد ہوشی کاٹنے والے

0
2