دشت اور سر پہ آسماں میرے
گرد آلود ہیں گماں میرے
آپ اگر شاملِ سفر ہوں کبھی
خاک میں جائیں نقطہ داں میرے
مجھے چبھتی ہے غیر کی الفت
ایک سے ایک امتحاں میرے
سوچتا ہوں اسے گنوا کر تو
گنتی سے بڑھ گئے زیاں میرے
روز کا قصہ روزگاری رہی
رہے حالات درمیاں میرے

0
3