کچھ خواب ہم نے ٍایسے سجائے ہیں آج تک
سکھ چین زندگی کے لٹائے ہیں آج تک
رشتوں کے سارے مان نبھائے ہیں آج تک
ہر موڑ پر فریب ہی کھائے ہیں آج تک
پوچھے نہ کوئی ہم سے ہماری اداسیاں
کچھ زخم دل میں ہم نے چھپائے ہیں آج تک
ہر درد ، ہم نے زیست کا، ہنس کر ، ہی سہہ لیا
بارِ الم بھی دل پہ اٹھائے ہیں آج تک
سکھ چین زندگی کا گنوا کر ترے لئے
ہم نے چراغِ غم بھی جلائے ہیں آج تک
تجھ کو خبر نہیں کہ ترے انتظار میں
کتنے ستم رُتوں کے اٹھائے ہیں آج تک
دنیا سے تیرے عشق کے قصے چھپائے ہیں
نغمے ترے ہی نام کے گائے ہیں آج تک
خوشیاں جلا کے ، ہم نے ، ترا غم، خریدا ہے
اور داغِ دل کے دشت کِھلائے ہیں آج تک
تجھ سے بچھڑ کے بھی تری دنیا میں ہم رہے
تیرے لئے ہی خود کو بھلائے ہیں آج تک
دنیا کے سامنے تو بہت مسکرائے ہم
سینے میں جو تھے تیر، چھپائے ہیں آج تک
اشکوں کو رکھ کے بار ہا دہلیزِ ضبط پر
دریا بھی چشمِ تر سے بہائے ہیں آج تک
جن راستوں پہ تیرے نشانِ قدم نہ تھے
اُن راستوں پہ اشک بہائے ہیں آج تک
جو بات کہہ نہ پائے ترے روبرو کبھی
وہ بات اپنے دل میں چھپائے ہیں آج تک
دنیا نے لاکھ ہم کو زمانے کا غم دیا
نْغمے ترے فراق کے گائے ہیں آج تک
جو شخص کب کا چھوڑ کے زاہدؔ چلا گیا
ہم نے اسی کے خواب سجائے ہیں آج تک

0
1