شورشِ روزِ حشر سے دل مرا خوف کھاۓ کیوں؟
میں ہوں غلام مصطفی آگ مجھے جلاۓ کیوں؟
ذکر رسول پاک ہو اور وہ بھی ہو حسن کا
قصۂِ حور و خلد پھر، کوئی ہمیں سنائے کیوں؟
تابعِ حکمِ مصطفے ذرہ ہے کائنات کا
کیسے نہ چاک ہو قمر شمس پلٹ نہ آئے کیوں؟
خلدِ بریں میں جائے گا، عاشقِ مصطفی فقط
منکرِ شاہِ انبیا، خلدِ بریں میں جائے کیوں؟
جبکہ ہیں میرے مصطفی مہر نگین انبیا
پھر کوئی اس جہان میں خود کو نبی بتاۓ کیوں؟
جو،کہ گدا ہے آپ کا آپ کے در سے پاۓ گا
غیر سے کیوں کرے طلب غیر کے درپہ جاۓ کیوں؟
میں نے رسول پاک پر خود کو فنا کیا تقیؔ
دل میں مرے حضور ہیں اور کوئی سماۓ کیوں؟

0
5