دل کہ غم کا کوئی خزینہ تھا
زخموں سے چھلنی اپنا سینہ تھا
دورِ اک بادۂ شبینہ تھا
گو مقدس بڑا مہینہ تھا
گزرے وقتوں کی یہ کہانی ہے
ایک دریا تھا اک سفینہ تھا
یاد آیا خدا بھی کب مجھ کو
ڈوبنے کو کہ جب سفینہ تھا
ٹھیس لگتے ہی چور چور ہوا
جو مرے دل کا آبگینہ تھا
دل نہ تھا سینے میں مرے گویا
آرزوؤں کا اک دفینہ تھا
آنکھوں میں ڈورے تھے حیا کے ترے
شرم کا جسم پر پسینہ تھا
وہ گُنَہ ہم سے جب ہوا سرزد
بارشوں کا کوئی مہینہ تھا
ہر حسینہ پہ تھی نظر اس کی
دل ہمارا بڑا کمینہ تھا
اتنی اونچی تھی عشق کی منزل
از زمیں تا فلک کہ زینہ تھا
شیخ جی کو کبھی نہیں آیا
مے کے پینے کا جو قرینہ تھا
زخم ہر اس دلِ شکستہ کا
جیسے کوئی جڑا نگینہ تھا
جستجو میں رہے یوں ہم گویا
آپ کا حسن اک خزینہ تھا
دام ہم نے بچھاۓ تھے یوں کئی
نام اس کا بھی پر حسینہ تھا
دل جگر ہوتے کیوں نہ پھر گھایل
غم سے چھلنی ہمارا سینہ تھا
اک رہے ہم ہی بد نصیب آخر
جو ملا راہیِ مدینہ تھا

0
3