| ماہِ رمضاں خوشیاں لایا، ماہِ رمضاں رحمت لایا |
| پاک کلام کی نعمت لایا، رب کی خاص عنایت لایا |
| نُور کا ہے ہر سمت اُجالا، سحری کا ہے لُطف نِرالا |
| اس کی برکت لُوٹ لو سارے، برکت کی بھی کثرت لایا |
| ہم نے صرف نہ بُھوکے رہنا، تقوٰی اصل ہے مقصد اپنا |
| نفس کو روکے رکھنا بدی سے، نیکیوں کی ہے رغبت لایا |
| کثرت سے ہم کر لیں تِلاوت، خوب مِلے گی ہم کو حَلاوت |
| کاش سمجھ لیں ساتھ معانی، عمدہ کتنی نصیحت لایا |
| ذکرِ اِلٰہی لب پر جاری، دِل پر ہیبت اس کی طاری |
| نعتِ نبی بھی پڑھتے جائیں، ایسا شوقِ عِبادت لایا |
| پانچ نمازیں اور تراویح، پڑھ لیں نوافل باری باری |
| اجرِ نوافل فرض برابر، فرض کی ستّر اُجرت لایا |
| جان لو تُم افطار کی برکت، رب کی رحمت کی ہے کثرت |
| اُس کی رِضا کو مانگ لو سارے، دیکھو کیسی سعادت لایا |
| ہر عشرے کی خاص فضیلت، خوب کریں ہم ان میں عبادت |
| رات ہزاروں ماہ سے افضل، ایسی رات کی نعمت لایا |
| بابِ جہنّم پر ہیں تالے، خوب سُنے وہ سب کے نالے |
| لاکھوں روز ہی بخشیں جائیں، کیا پیغامِ فرحت لایا |
| زیرکؔ باندھ کمر تُو اپنی، خوب عبادت تم کو ہے کرنی |
| ماہِ رمضاں ماہِ عبادت، کیسا شوقِ اِطاعت لایا |
معلومات