مکافاتِ عمل دستک بلا تاخیر دیتا ہے
سو جیسا خواب ہوتا ہے وہی تعبیر دیتا ہے
کسی کے حق میں جو کانٹے بچھاتا ہے زمانے میں
وہی اک روز اپنے پاؤں میں زنجیر دیتا ہے
وفاؤں کی زمیں پر پیار کے موتی بکھیرے جو
دلوں کو روشنی، آنکھوں کو بھی تنویر دیتا ہے
غرورِ ذات میں ڈوبا ہوا انسان بل آخر
خود اپنے ہاتھ سے خود کو بڑی تحقیر دیتا ہے
بھروسہ جو خدا پر رکھ کے چلتا ہے اندھیروں میں
خدا اس کی دعاؤں کو عجب تاثیر دیتا ہے
جو سچ کے راستے پر صبر سے قائم قدم رکھے
زمانہ اُس کو جینے کی نئی تصویر دیتا ہے
کبھی نفرت کے شعلوں کو ہوا مت دو مرے یارو
محبت کا دیا ہی روشنی تکثیر دیتا ہے
کرم والوں کے در سے لوٹتا کوئی نہیں خالی
وہ سائل کو دعا، محتاج کو توقیر دیتا ہے
جو ارشدؔ اب قلم کو حق بیانی سے سجا رکھنا
یہی کردار انساں کو سدا تنویر دیتا ہے
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0
4