مل کے رہنے کی جو صورت تھی، مٹا دی گئی کیا
پھر محبت کی بھی بنیاد گرا دی گئی کیا
بے نشاں کب کے ہوئے سارے پرانے نقشے
اور کوئی نئی تصویر بنا دی گئی کیا
منہ اٹھائے چلے آتے ہیں اندھیروں کے سفیر
وہ جو اک رسمِ چراغاں تھی، اٹھا دی گئی کیا
ایک بندے کی حکومت ہے، خدائی ساری
یہ منادی بھی زمانے میں کرا دی گئی کیا
اب کے پانی میں یہ سرخی ہے بھلا کیسی، بتاؤ
بہتے دریا میں کوئی چیز ملا دی گئی کیا
کم سے کم دیکھ تو لیتا میں فصیلِ زنداں
میری زنجیر کی حد اور بڑھا دی گئی کیا
میں اندھیروں میں بھٹکتا ہوں تو حیرت کیسی
میرے رستے میں کوئی شمع جلا دی گئی کیا

0
2