ساتھ لطف و کرم نہیں ہوتے
آپ گر ہم قدم نہیں ہوتے
امتحاں عشق گر نہیں ہوتا
زندگی کے بھی غم نہیں ہوتے
 لوگ چلتے ہیں رہ محبت کی
 فاصلے پھر بھی کم نہیں ہوتے
دکھ مسافت کے ساتھ رہتے ہیں
قصے جن کے رقم نہیں ہوتے
کب مسیحا وفا میں ہوتا ہے
درد ان کے ختم نہیں ہوتے
جن میں شاہد خودی سما جائے
پھر کبھی سر وہ خم ہوتے ہیں

0
2