ہے جس کا حکم کہ رہزن کو رہنما کہیے
تو پھر اُسی کو زمانے کا ناخدا کہیے
وہ شخص خود سے بھی جس کی نظر نہیں ملتی
عجیب ضد ہے کہ اُس کو بھی باحیا کہیے
میں جانتا ہوں مگر جاننے سے کیا حاصل
سو اپنے آپ کو ہی صرف بےخطا کہیے
عجب نہیں کہ کوئی بات بھی نہ ہو دل میں
عجب نہیں کہ اُسی کو ہی مدعا کہیے
یہ دور ہے کہ معانی بھی ساتھ چھوڑ گئے
بُرے کو اچھا اچھے کو پھر برا کہیے
عجیب عہد ہے خاموشی بھی زباں ٹھیری
سو بولیے تو لیکن سوچ کر ذرا کہیے

0
3