| کہتے ہیں جسے ہم گلِ احمر، نہیں دیکھا |
| افسوس! کبھی تم نے پشاور نہیں دیکھا |
| سیکھا ہے اسے دیکھ کے ہنسنا مرے لب نے |
| جس نے مری جانب کبھی ہنس کر نہیں دیکھا |
| جو تیرے تغافل نے لگایا ہے جگر پر |
| اس زخم کو ہوتے ہوئے بہتر نہیں دیکھا |
| ہر وقت پہاڑوں پہ رہا غیض و غضب کے |
| وہ چاند کبھی بامِ کرم پر نہیں دیکھا |
| نظارہ جسے دیکھنے آئے تھے زمیں زاد |
| اے چشمِ فلک تُو نے وہ منظر نہیں دیکھا |
| دیکھا ہے مرا پیرہنِ چاک لہو رنگ |
| "تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا" |
| اس دل کے مکاں پر ہے قمرؔ غیر کا قبضہ |
| دروازے پہ آویزاں کیا بینر نہیں دیکھا |
| قمرآسیؔ |
معلومات