ذکرِ شبیر ہے، حلاوت کا
آئے گا اب مزہ عبادت کا
دل میں نقشہ حسین کا اُبھرا
"ذکر جب بھی چھڑا شہادت کا"
بس گئی دل میں الفتِ شبیر
حق ادا ہو گیا قیادت کا
واقعہ کربلا کا یاد آیا
چھوٹا قد ہو گیا قیامت کا
اے قلندر سنبھال دل اپنا
گُل ہے شبیر کی امانت کا
جو بھی شبیر کا ہے، سب ہے مرا
میں فقیر ان کی ہوں عنایت کا
یاد شبیر کو کیا جو ذکیؔ
کچھ سخن ہو گیا سعادت کا

0
3