خَیال تیرا جسے مِلا ہے، وہ قُربتوں سے نِہال ہوگا
تِرے تَصوّر کی روشنی سے، جَہاں میں روشن خَیال ہوگا
ہُوا ہے مَجذوب اور دِوانہ، جسے بھی کوئی رَمَق ملی ہے
مَقامِ حَیرت ہیں راز تیرے، کہ ہوش آنا مُحال ہوگا
وُجودِ ظاہر فَنا ہیں سارے، وُجودِ باطن بَقا رہے گا
وُجودِ اَوّل، وُجودِ آخر، وُجودِ جَلَّ جَلال ہوگا
کِسی بھی ذَرّے کو کھول دیکھو، کِسی تَرازو پہ تول دیکھو
جَہاں سے دیکھو، جَہاں پہ دیکھو، اُسی کا حُسنِ جَمال ہوگا
اَجَل کے آتے ہی ہوں گی ظاہر، حقیقَتوں کی حقیقَتیں بھی
سِوائے رُوحِ فَقیرِ کامل، سَبھی کو رَنج و مَلال ہوگا
نِگاہِ کامل پَڑی ہے جس پر، اُسی کو کُندن بنا دیا ہے
فَقیرِ کامل کا اَدنٰی خادم، جَہاں بھی ہوگا، کَمال ہوگا
غُلام تُجھ کو اَمَر ہُوا ہے، خُدا کی پاکی بیان کرنا
اِسی سے تُجھ کو مِلے گی پاکی، اِسی سے تُجھ کو وِصال ہوگا

0
14