سوچنے پر بھی مدعا نہ ملے
ہے دلیلِ خدا، خدا نہ ملے!
دشت کے ساتھ آسمان بھی ہے
نہیں ممکن کہ آسرا نہ ملے
تُو ملے اور پھر بچھڑ جاۓ
پھر مجھے کوئی دوسرا نہ ملے!
جس طرح تیرا میرا ملنا رہا
دہر میں ایسا واقع نہ ملے!

0
4