| سوچنے پر بھی مدعا نہ ملے |
| ہے دلیلِ خدا، خدا نہ ملے! |
| دشت کے ساتھ آسمان بھی ہے |
| نہیں ممکن کہ آسرا نہ ملے |
| تُو ملے اور پھر بچھڑ جاۓ |
| پھر مجھے کوئی دوسرا نہ ملے! |
| جس طرح تیرا میرا ملنا رہا |
| دہر میں ایسا واقع نہ ملے! |
| سوچنے پر بھی مدعا نہ ملے |
| ہے دلیلِ خدا، خدا نہ ملے! |
| دشت کے ساتھ آسمان بھی ہے |
| نہیں ممکن کہ آسرا نہ ملے |
| تُو ملے اور پھر بچھڑ جاۓ |
| پھر مجھے کوئی دوسرا نہ ملے! |
| جس طرح تیرا میرا ملنا رہا |
| دہر میں ایسا واقع نہ ملے! |
معلومات