خداوندا! یہ کیسی آزمائش ہے
جدھر دیکھو ادھر تن کی نمائش ہے
اگر فرصت ملے تو سوچنا ننگو!
یہ بدنِ نازنیں کس کی نوازش ہے؟
ہمیشہ فیصلے بچوں پہ تھوپے ہو
کبھی پوچھے بھی ہو کیا انکی خواہش ہے!؟
ذرا سا وقت اپنوں کے لیے بھی دو
ہماری آپ سے اتنی گزارش ہے
رہو خود خوش خوشی بانٹو یہ کیا غصہ
یہ دنیا صرف دو روزہ رہائش ہے
مہکنا ہی تھا اس کو تو کہ یہ جو ہے
یہ سیف اللہ راہیؔ کی نگارش ہے

15