| خداوندا! یہ کیسی آزمائش ہے |
| جدھر دیکھو ادھر تن کی نمائش ہے |
| اگر فرصت ملے تو سوچنا ننگو! |
| یہ بدنِ نازنیں کس کی نوازش ہے؟ |
| ہمیشہ فیصلے بچوں پہ تھوپے ہو |
| کبھی پوچھے بھی ہو کیا انکی خواہش ہے!؟ |
| ذرا سا وقت اپنوں کے لیے بھی دو |
| ہماری آپ سے اتنی گزارش ہے |
| رہو خود خوش خوشی بانٹو یہ کیا غصہ |
| یہ دنیا صرف دو روزہ رہائش ہے |
| مہکنا ہی تھا اس کو تو کہ یہ جو ہے |
| یہ سیف اللہ راہیؔ کی نگارش ہے |
معلومات